21 مئی 2012 - 19:30

الوفاق کے سابق رکن پارلیمان نے کہا کہ خلیفی سعودی اتحاد یا بحرین کے الحاق کا اصل مقصد بحرینی عوام کے پرامن انقلاب کا خاتمہ ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے سابق رکن پارلیمان "علي العشيري" نے کل بروز جمعہ العالم کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: بحرینی عوام بحرین کے سعودی عرب سے الحاق کے خلاف ہیں اور دارالحکومت منامہ کے شارع البودیہ پر منعقدہ ریلی میں سیاسی جماعتوں اور 14 فروری انقلابی اتحاد کے اہم راہنماؤں کی شرکت اس مخالفت کا اعلانیہ اظہار تھا۔

انھوں نے کہا: اس ریلی کا پیغام بحرین کی آل سعود کے ہاتھوں فروخت اور اس ملک کی قومی اور سرزمینی سالمیت کی پامالی، کی مخالفت ہے اور یہ کہ کسی بھی ملک سے اتحاد کے لئے قوم کی رائے پوچھنی پڑے گی۔

انھوں نے کہا: اس ریلی کا دوسرا پیغام یہ تھا کہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم بحرینی انقلابیوں کی سرخ لکیر (Red Line) ہیں اور حکومت اگر اس لکیر کو پارکرنے کی کوشش کرے تو اس کو شدید ترین عوامی رد عمل کا سامنا ہوگا۔

انھوں نے کہا: جمعہ کی عظیم ریلی در حقیقت عوام کر پر امن انقلاب کو جاری رکھنے کے عزم اور عوام کی رائے کے خلاف کسی قسم کے معاہدے کی مخالفت کا اعلان تھا۔ العشیری نے کہا: عمان، کویت، قطر اور امارات نے اتحاد کے مشکوک معاہدے کی مخالفت کی مخالفت کی ہے۔

یاد رہے کہ قطر نے بھی سعودی عرب پر قبضے کا عندیہ دیا ہے اور آل سعود نے علاقے پر قطر کے تسلط کا راستہ روکنے کے لئے خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو یکے بعد دیگرے ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور چار عرب ریاستوں نے متنازعہ معاہدے کی مخالفت کرکے در حقیقت آل سعود کی نیت پر شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بحرین کا الحاق؛ سعودی برطانوی سازش ناکامی کی جانب گامزن